(61) قریش کے لوگ کمزور مسلمانوں کو لالچ دیتے تھے کہ اگر وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے تو وہ انہیں مال و متاع سے نوازیں گے، اللہ تعالیٰ نے ایسے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان اور رسول اللہ کے ہاتھ پر کی گئی بیعت کے بدلے تم لوگ دنیا کی متاع حقیر کو قبول نہ کرو، اس کے بعد کہا کہ نصرت و فتح، مال غنیمت اور رزق کثیر اور آخرت میں جنت جیسی لازوال نعمت اس عارضی متاع سے زیادہ بہتر ہے جس کی قریش لالچ دیتے ہیں۔
آیت (96) میں مزید تاکید کے طور پر فرمایا کہ تمہارے پاس دنیا کی جو بھی نعمت ہے وہ ختم ہوجائے گی اور اللہ کی جنت ہمیشہ باقی رہے گی، اس کے بعد مکی دور کے ہی مسلمانوں کو ملحوظ رکھ کر فرمایا کہ جو لوگ آج مشرکین کی اذیتوں پر صبر کریں گے اور اسلام پر ثابت قدم رہنے کے لیے تکلیفیں جھیلیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے صبر و استقامت کا کئی گنا اچھا بدلہ دے گا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہر اس مسلمان کے لیے ہے جو کسی بھی زمانے میں اپنے ایمان و اسلام پر ثابت قدم رہے گا اور دنیا کی حقیر فائدوں کی خاطر اپنے دین کو داؤ پر نہیں لگائے گا۔