(29) ذوالنون سے مراد یونس بن متی (علیہ السلام) ہیں۔ نون مچھلی کو کہتے ہیں چونکہ مچھلی نے انہیں اللہ کے حکم سے نگ لیا تھا، اسی لئیے اللہ نے اس لقب کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا ہے۔ انہیں موصل کے علاقے میں نینوی والوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا تھا، تاکہ لوگوں کو توحید بار تعالیٰ، عدل و انصاف اور اخلاق حسنہ کی دعوت دیں، لیکن انہوں نے ان کی دعوت کو قبول نہیں کیا، بلکہ دن بدن ان کی شر انگیزی بڑھتی ہی گئی۔ آخر کار ان کے کفر سے تنگ آکر انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو ان پر اللہ کا عذاب آکر رہے گا، اور خود وہاں سے نکل کر بیت المقدس آگئے، اور پھر وہاں سے یافاکی طرف روانہ ہوگئے، اور ترشیش کی طرف جانے والی ایک کشتی میں سوار ہوگئے، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ تیز آندھی چلنے لگی اور کشتی کو خطرہ لاحق ہوگیا، تو لوگوں نے کشتی کا بوجھ کم کرنے کے لیے اپنا سمندر میں پھینک دیا، اس کے بعد بھی خطرہ نہیں ٹلا تو انہوں نے سوچا کہ کشتی میں ضرور کوئی یسا آدمی ہے جس کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی تو یونس (علیہ السلام) کا نام قرعہ نکلا، اس لیے لوگوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا تو طوفان رک گیا، اللہ نے ایک مچھلی کو بھیجا جس نے انہیں نگل لیا، تین دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے، پھر دعا کی تو اللہ نے قبول کرلی اور مچھلی نے ساحل پر آکر اپنے پیٹ سے انہین باہر کردیا۔
ترمذی، نسائی اور حاکم وغیرہم نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: یونس کی دعا جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے: لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ تھی، جب بھی کوئی مسلمان اپنے رب سے کسی حاجت کے لیے یہ دعا کرے گا قبول کی جائے گی۔ محدث البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے، احمد حاکم اور ترمذی نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ آیت میں ظلمات یعنی تاریکیوں سے مراد رات کی تاریکی، مچھلی کے پیٹ کی تاریکی، اور سمندر کی تاریکی ہے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ یونس (علیہ السلام) کی ناراضگی اللہ کے لیے اپنی قوم کے کفر کی وجہ سے تھی، لیکن ان سے بھول یہ ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر نینوی سے چلے گئے تھے، اسی لیے جب دعا کی تو اپنے آپ کو ظالم کہا، یونس (علیہ السلام) کے نینوی سے چلے جانے کے بعد جب ان کی قوم کو عذاب کا یقین ہوگیا تو انہوں نے فورا توبہ کرلی، اور ایمان لے آئے، تو اللہ نے عذاب کو اٹھا لیا جس کی تفصیل سورۃ یونس آیت (98) میں گزر چکی ہے۔