(20) مفسرین لکھتے ہیں کہ ان آیات سے مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسانوں کی طرح جنوں کے بھی نبی بنا کر بھیجے گئے تھے اور جنوں نے آپ کی زبانی قرآن کریم سنا اور ان میں سے جنہیں اللہ نے توفیق دی وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے اور حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ آپ کفار مکہ سے اس دن کا ذکر کردیجیے جب ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو آپ کے پاس پہنچا دیا، تاکہ آپ کی زبانی قرآن کریم سنیں جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو آپ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ سب خاموشی اختیار کریں اور قرآن کو غور سے سنیں آپ کی تلاوت سن کر جن بہت متاثر ہوئے اور آپ پر ایمان لے آئے، چنانچہ تلاوت ختم ہوتے ہی سب اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور ان سے کہا کہ میں نے اس قرآن کریم کی تلاوت سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی تورات کے بعد انسانوں کی ہدایت کے لئے اللہ کی جانب سے نازل ہوا ہے جو اس پر ایمان نہیں لائے گا اس کے لئے کوئی خیر نہیں ہے۔
عطاء کا قول ہے کہ وہ جن یہودی تھے اور قرآن سن کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن پر ایمان لے آئے تھے خازن نے لکھا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی مختلف ادیان و مذاہب کے ماننے والے ہیں۔ ان میں بھی یہود و نصاریٰ، مجوسی اور بتوں کے پجاری ہیں اور ان کے مسلمانوں میں بعض اہل بدعت ہوتے ہیں اور بعض باطل عقائد والے ہیں۔
جنوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: اے ہمار قوم کے لوگو ! یہ قرآن گزشتہ آسمانی کتابوں (صحائف ابراہیم، تورات اور زبرو و انجیل وغیرہ) کی تائید و تصدیق کرتا ہے، یعنی اس کی دعوت بھی وہی دعوت توحید ہے جو دیگر آسمانی کتابوں کی دعوت تھی یہ قرآن دین حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
لوگو ! اللہ کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آؤ، اور ان کی دعوت توحید کو قبول کرلو، اللہ تعالیٰ تمہارے ان گناہوں کو معاف کر دے گا جو تمہارے اور اس کے درمیان ہوں گے (البتہ وہ گناہ جن کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہوگا، انہیں یا تو وہ بندے معاف کر دے گا یا یہ کہ ان کے حقوق انہیں واپس کردیئے جائیں) اور تمہیں آگ کے درد ناک عذاب سے نجات دے گا۔
شوکافی لکھتے ہیں کہ آیت (31) اس بات کی دلیل ہے کہ اوامرنواہی اور ثواب و عقاب میں جن و انس برابر ہیں، مالک، شافعی اور ابن ابی لیلی وغیر ہم کا یہی خیال ہے اور حسن بصری کہتے ہیں کہ مومن جنوں کا ثواب یہی ہے کہ انہیں عذاب نار سے نجات دے دی جائے گی، اس کے بعد بہائم کی طرح مٹی ہوجائیں گے، امام ابوحنیفہ کی یہی رائے ہے۔
شوکانی نے پہلی رائے کو ترجیح دی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الرحمٰن آیات (46/47) میں فرمایا ہے: (ولمن خاف مقام ربہ جنتاں فبای الاء ربکما تکذبان) " او اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں، پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے" یعنی جنت جن و نس دونوں کے مومنوں کو ملے گی اور عقل اور عدل و انصاف کا بھی یہ تقاضا ہے کہ جب کاف جنوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو ان کے مومنوں کو جنت اور اس کی نعمتوں سے نوازا جائے۔
جنوں نے اپنا کلام جاری کھتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: لوگو ! جو شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت توحید کو قبول نہیں کرے گا، اور ان پر اور قرآن پر ایمان نہیں لائے گا، وہ اللہ سے بھاگ کر کہاں جائے گا، زمین کا ایک ایک حصہ اس کے زیر تصرف اور زیر حراست ہے۔ اس کی گرفت سے کون بچ سکتا ہے اور اس کے مقابلے میں کون ایسے شخص کی مدد کرسکتا ہے۔ جو لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے وہ کھلی گمراہی میں پڑجائیں گے اور کبھی راہ راست پر نہیں آئیں گے۔
جنوں کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی قرآن کریم سننے او آپ سے دین کی باتیں سیکھنے سے متعلق بہت سی احدیث وارد ہوئی ہیں، جن کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بارہ قرآن کریم سنا، جن میں سے بعض کا قرآن کریم میں اور بعض کا احادیث میں ذکر آیا ہے، اور آپ سے ان کی بہت سی ملاقاتوں کا ذکر صراحت کے ساتھ قرآن و سنت میں نہیں آیا ہے، لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنوں کی ہدایت کے لئے بھی مبعوث کئے گئے تھے۔ اس لئے بہت سے جن آپ کی مجلسوں میں حاضر ہو کر آپ سے اسلام کی تعلیم حاصل کرتے رہے، بلکہ صحیح مسلم میں مروی عبداللہ بن مسعود (رض) کی ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنوں کی درخواست پر اکیلے ان کی قوم کے پاس گئے اور انہیں اسلام کی تعلیم دی اور مسند احمد میں مروی عبد اللہ بن مسعود (رض) کی ایک دوسری روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک دوسری بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب جنوں کو اسلام کی تعلیم دینے گئے تو عبداللہ بن مسعود (رض) آپ کے ساتھ گئے تھے۔
مذکورہ بالا آیات کریمہ میں جنوں کے جس واقعہ کا ذکر آیا ہے، اس کے بارے میں محمد بن اسحاق نے محمد بن کعب قرظی سے روایت کی ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف والوں کے قبول اسلام سے مایوس ہو کر مکہ مکرمہ واپس ہو رہے تھے اور رات کو وادی نخلہ میں ٹھہر گئے تھے تو نصیبین کے جنوں نے آپ کی زبانی قرآن کریم کی تلاوت سنی۔
اس واقعہ کو حاکم، ابن مردویہ، ابو نعیم اور بیہقی نے بھی اختصار کے ساتھ رویت کی ہے، جس میں آیا ہے کہ ان جنوں کی تعداد نو تھی اور ان میں سے ایک کا نام زوجہ تھا۔ مسند احمد کی ایک صحیح روایت میں ہے کہ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے روایتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنوں کی آمد اور قرآن کریم سننے کا علم اس وقت ہوا جب یہ آیتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئیں۔
حافظ ابن کثیر کا خیال ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی قرآن کی تلاوت سننے کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا، جیسا کہ مسند احمد میں ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے جن وحی سماوی بن لیا کرتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد جب انہوں نے ایسی کوشش کی تو انہیں انگاروں سے مار اجانے لگا۔ چنانچہ ابلیس نے جنوں کو پتہ لگانے کے لئے بھیجا، تو انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وادی نخلہ کے دو پہاڑوں کے درمیان قرآن پڑھتے پایا۔
یہ روایت بتاتی ہے کہ جنوں نے ابتدائے وحی میں ہی آپ کی زبانی قرآن سنا تھا، لیکن طائف سے واپسی کے وقت وادی نخلہ میں آپ کی زبانی قرآن سننے کے بعد، ان کے وفود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پے در پے آنے لگے اور اسلام کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔