فهرس الكتاب

الصفحة 5168 من 6343

(7) مفسرین نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت یہود مدینہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور ابن زید کا قول ہے کہ بعض منافقین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح سرگوشی کرتے تھ کہ ممنین ڈر جاتے تھے کہ شاید کسی جنگ کی بات ہو رہی ہے، یا کوئی مصیبت آنے والی ہے بغض دیگر روایتوں میں آتا ہے کہ جب مسلمان یہود و منافقین کے پاس سے گذرتے، تو وہ آپس میں سرگوشی کرنے لگتے تاکہ مسلمان یہ سمجھیں کہ وہ ان کے خلاف کوئی بات کر رہے ہیں، یا مسلمانوں کے کسی لشکر پر دشمن نے حملہ کر کے نقصان پہنچایا ہے جس کی خبر ان کے پاس ہے مسلمان ان باتوں سے خوف زدہ ہوجاتے تھے اور ان کا مقصد بھی یہی ہوتا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان رعب پھیلائیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اس بات کا احساس ہوا تو آپ نے لوگوں کو سرگوشی کرنے سے منع فرمایا۔

امام احمد، بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے ابن مسعود (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ " جب تم تین ہو، تو دو الگ ہو کر سرگوشی نہ کریں، اس لئے کہ یہ چیز تیسرے آدمی کو غمگین بنا دیتی ہے" لیکن یہود و منافقین اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ان کا پردہ فاش کیا کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں اور آپس میں مسلمانوں کے خلاف ظلم و عدوان اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عدم اطاعت کے بارے میں سرگوشی کرتے ہیں اور ان کا خبث باطن اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ جب یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے ہیں تو " السلام و علیکم" کے بجائے " السام علیکم" کہتے ہیں، یعنی تمہیں موت آجائے امام احمد اور مسلم وغیرہ ہما نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ یہود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو " السام علیکم" کہتے تھے، ان کا مقصد آپ کو گالی دینا ہوتا تھا پھر اپنے دل میں کہتے کہ: (لولایعذبنا اللہ بما نقول) کہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ہے؟ ! تو (واذا جاؤک حیوک) الآیۃ نازل ہوئی، انتہی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اس استعجاب کا یہ جواب دیا کہ وہ عذاب انہیں قیامت کے دن ملے گا، جب انہیں جہنم میں جلنے کے لئے ڈال دیا جائے گا، جو بڑا ہی برا ٹھکانہ ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت