فهرس الكتاب

الصفحة 6298 من 6343

(1) عربی زبان میں " ایلاف" کا معنی کسی چیز کا عادی ہونا ہے، بہت سے مفسرین کا خیال ہے کہ " لایلاف" میں جارو مجرور کا تعلق اس سے پہلی الی سورت یعنی سورۃ الفیل سے ہے اور مفہوم یہ ہے کہ ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا، اس لئے کیا تاکہ اہل قریش یمن و شام کے سفر کے عادی رہیں اور بے خوف و خطر سفر کرتے رہیں، قریش پر ہمارا یہ احسان تھا چنانچہ اہل قریش جب تجارت کے لئے مکہ سے باہر جاتے تو کوئی قبیلہ ان پر حملہ نہیں کرتا تھا، قبائل عرب کہتے تھے کہ یہ لوگ اللہ کے گھر والے ہیں انہیں چھیڑ کر کوئی اللہ سے عداوت نہ کرے اور ان کے اس عقیدے کی توثیق اللہ تعالیٰ نے اصحاب فیل کے واقعے سے کردی کہ جب ابرہہ حبشی خانہ کعبہ کو گرانے کے لئے آیا تو اللہ نے اسے ہلاک کردیا۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں قریش کو انہی نعمتوں کی یاد دلائی ہے اور کہا ہے کہ ہم نے ابرہہ اور اس کی فوج کے ساتھ ایساا اس لئے کیا تاکہ اہل قریش تجارت کے لئے بے خوف و خطر شام و یمن کا سفر کرتے رہیں اور کوئی ان پر حملہ نہ کرے۔

قریش کے لوگ سال میں دوبارہ تجارتی سفر کرتے تھے، سردی کے زمانے میں یمن اور گرمی میں شام جاتے تھے اور اپنا تجارتی مال بیچ کر وہاں سے کھانے پینے کی چیزیں لاتے تھے اور سال بھر آرام سے مکہ مکرمہ میں زندگی گذارتے تھے۔

اسی لئے آیت (3) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ان پر اللہ کے انعامات کا شمار نہیں کیا جاسکتا اور ان میں سے ہر نعمت ان سے شکر کا تقاضا کرتی ہے، لیکن سردی اور گرمی کے زمانے میں شام و یمن کی طرف ان کا سفر کرنا تو اتنی بڑی نعمت ہے کہ اسے یاد کر کے انہیں ضرور ہی رب کعبہ کی عبادت کرنی چاہئے جس نے ان اسفار کے ذریعہ ان کی روزی کا انتظام کیا، اور اہل حرم ہونے کے سبب انہیں خوف و ہراس سے نجات دی، نہ کوئی ان پر حملہ کرتا ہے اور نہ ہی کوئی ان سے قتال کی سوچتا ہے۔

ابن زید کہتے ہیں کہ عرب کے لوگ ایک دوسرے پر چھاپہ مارتے تھے اور ایک دوسرے کو قیدمی بنا لیتے تھے اہل حرم کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا لوگوں کے دلوں میں حرم کی زت ان پر حملہ کرنے سے باز رکھتی تھی، پھر انہوں نے سورۃ القصص کی آیت (57) پڑھی (اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرات کل شی) " کیا ہم نے انہیں امن و امان اور مرمت والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں تمام اقسام کے پھل کھچے چلے آتے ہیں" نیز سورۃ العنکبوت کی آیت (67) پڑھی: (اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویتخطف الناس من حولھم) " کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو پرامن بنا دیا ہے حالانکہ اس کے اردرد سے لوگ اچک لئے جاتے ہیں۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت