(2) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہی بات بصراحت کہی ہے جس کو ثابت کرنے کے لئے اس نے اوپر کی دونوں آیتوں میں قسم کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا کافر و ملحد یہ سمجھتا ہے کہ وہ مر کر گل سڑ جائے گا اس کا وجود ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا۔
اور ہم اس کیہ ڈیاں زمین سے نکال کر انہیں جمع کر کے اسے دوبارہ زندہ نہیں کریں گے؟ یہ اس کی خام خیالی ہے، ہم یقیناً اس بات پر قادر ہے کہ اس کی ہڈیوں کو جمع کریں، بلکہ ہم تو اس سے بڑی بات کی قدرت رکھتے ہیں کہ اس کے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کو اونٹ اور گدھے کی کھر کی مانند یکجا کردیں، تاکہ ان سے وہ دقیق و باریک کام نہ لے سکے جو وہ اپنی انگلیوں کے ذریعہ لیتا ہے۔
آیت (4) کا دوسرا مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہم تو انسان کی انگلیوں کو بننے پر قادر ہیں جو چھوٹی اور نازک ہوتی ہیں اور ایک دوسرے سے الگ اور حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تو پھر اس کے جسم کی بڑی ہڈیوں کو دوبارہ بنانے پر کیوں نہیں قادر ہوں گے جبکہ پہلی بار ہم نے ہی انہیں بنایا تھا۔
آیت (5) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کافر و ملحد انسان، اللہ تعالیٰ کی قدرت تخلیق کا اس لئے انکار نہیں کرتا ہے اس کے پاس اس کی دلیل نہیں پہنچی ہے اور اس کا وہ دل سے معترف نہیں ہے، بلکہ اس کی نیت فاسد ہوتی ہے، وہ محض استکبار کی وجہ سے چاہتا ہے کہ انکار آخرت پر اس کا اصرار باقی رہے اور حقیقت کا اعتراف نہ کرے۔