48۔ منافقین جب اپنی خلوتوں میں ہوتے تو مسلمانوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طعنہ زنی کرتے، اور جب اس کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کو ہوتی، اور ان سے پوچھا جاتا تو قسمیں کھا کر کہتے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مسلمان ان سے خوش رہیں، ان کے اسی نفاق اور اخلاقی گراوٹ پر قرآن کریم نے ماتم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ حقدار تھے کہ وہ لوگ انہیں راضی کرتے اور نفاق سے تائب ہوجاتے۔
آیت 63 میں ان کے نفاق کا انجام بد بتایا گیا ہے کہ کیا انہیں پتہ نہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اس کا بدلہ جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ کے لیے رہے گا۔