(2) اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت اور غایت حکمت و ثابت کرنے کے لیے حضرت انسان کی تخلیق کے مدارج بیان کیے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا ہے یعنی مٹی پانی کے ساتھ ملی تو پودے پیدا ہوئے، جنہیں انسان نے کھایا تو خون بنا، اس خون سے ہم نے نطفہ بنایا، اور اس نطفہ کو رحم مادر میں پہنچایا جہاں جاکر اللہ کے حکم سے ٹھہر گیا، پھر اسے سرخ اور منجمد خون میں بدل دیا، پھر اسے گوشت کا ایک ٹکڑا بنا دیا، پھر اس ٹکڑے سے ہم نے انسانی جسم کا عمود فقری اور باقی ہڈیاں تیار کیں، اور پھر ان پر گوشت کی تہیں جمادیں، پھر دیگر اعجائے بنائے، اچھی شکل و صورت بنائی اور ایک انسان کامل بنا کر رحم مادرسے باہر لے آئے، یہ سب اس اللہ کی عظیم کاریگری ہے جو عظیم قدرت و حکمت والا ہے۔