فهرس الكتاب

الصفحة 4263 من 6343

(5) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی جواب دیا کہ میں تو تمہارے ہی طرح کا ایک آدمی ہوں، فرق صرف یہ ہے کہ مجھ پر اللہ کی وحی نازل ہوتی ہے، پھر میری بات قبول کرنے سے تمہارے دلوں پر پردے کیوں پڑے ہیں، تمہارے کان کیوں بہرے ہیں اور تم نے ہمارے اور اپنے درمیان حجاب کیوں حائل کر رکھا ہے؟ اور میں تمہیں کسی ایسی بات کی طرفت و نہیں بلاتا جسے عقل قبول نہ کرتی ہو، میں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دیتا ہوں اس لئے تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم بتوں سے اعلان برأت کر دو، پورے خلوص کے ساتھ اللہ کی بندگی پر ثابت قدم ہوجئاو، اور اب تک شرک اور دیگر جتنے گناہتم سے سر زد ہوئے ہیں ان سے طلب مغفرت کرو۔

اس کے بعد اہل شرک کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہلاکت و بربادی ہے ان اہل شرک کے لئے جو اپنے آپ کو شرک اور اخلاق رذیلہ سے پاک نہیں کرتے ہیں، بعث بعدالموت اور قیامت کے دن کی جزا و سزا کا انکار کرتے ہیں۔ ابن عباس (رض) نے (لایوتون الزکاۃ) کی تفسیر " لایشھدون ان لا الہ الا اللہ" سے کی ہے، یعنی وہ لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ عکرمہ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔ ابن جریر نے زکاۃ سے مال کی زکاۃ مراد لی ہے، جو محل نظر ہے، اس لئے کہ زکاۃ 2 ھ میں فرض ہوئی تھی اور یہ آیت مکی ہے اس لئے راجح یہی ہے کہ یہاں زکاۃ سے مراد شرک سے پاکی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (قد افلح من زکاھا) " وہ آدمی کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو شرک اور گناہوں سے پاک کیا۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت