(8) کفار قریش پر عذاب کی دھمکی کا الٹا ہی اثر ہوا، اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنے لگے کہ قیامت تک کیوں انتظار کیا جائے، اسی دنیا میں ہی ہمارے حصے کا عذاب بہم پر بھیج دیا جائے، ابن جریر کا خیال ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ قیامت کا کیا انتظار کرنا ہے، خیر یا شر، جس کے بھی ہم مستحق ہیں اسی دنیا میں ہی ہمیں دے دیا جائے۔