فهرس الكتاب

الصفحة 3681 من 6343

34 دعوت اسلامیہ کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے مشرکین مکہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب قرآن کریم نازل ہوتا اور آپ تازہ بہ تازہ اہل قریش کے سامنے اس کی تلاوت کرتے تاکہ ان کھلی آیتوں کو سن کر اللہ پر ایمان لے آئیں، تو ان پر اس کا الٹا اثر پڑتا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہتے کہ یہ آدمی تمہیں تمہارے آباء و اجداد کے دین سے روکنا چاہتا ہے، یعنی تم لوگ اپنے باپ دادوں کے دین پر ہی ڈٹے رہو، اس لئے کہ یہ دین صحیح ہے اور محمد جس دین کی طرف تمہیں بلا رہا ہے وہ باطل ہے اور قرآن کریم کے بارے میں کہتے کہ یہ ایک جھوٹا کلام ہے جسے اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت الی التوحید سے متعلق مؤثر بات سنتے اور دیکھتے کہ لوگ اثر قبول کر رہے ہیں اور جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے جا رہے ہیں، تو کہتے کہ لوگو ! اس کی بات کا اثر نہ لو، یہ تو کھلم کھلا جادو ہے اور محمد بہت بڑا جادو گر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت