فهرس الكتاب

الصفحة 5640 من 6343

(4) بخاری و مسلم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب وحی نازل ہوتشی تو آپ ہونٹ ہلانے لگتے آپ سے کہا گیا کہ آیتوں کو یاد کرنے کے لئے اپنی زبان نہ ہلائیے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں آپ کے سینے میں محفوظ کردیں تاکہ نزول وحی ختم ہونے کے بعد آپ انہیں پڑھیں اس لئے جب ہم پوری وحی نازل کر چکیں، تب آپ پڑھئے پھر اس کے بیان کرنے کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب جبریل وحی لے کر آتے تو آپ غور سے سنتے اور جب جبریل چلے جاتے تو آپ ویسے ہی پڑھتے جس طرح جبریل نے پڑھات ھا، انتہی، سورۃ طہ آیت (114) میں اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے: (ولا تعجل بالقراء ان من قبل ان یقضی الیک وحیہ) " آپ وحی ختم ہونے سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیجیے۔ "

حافظ ابن کثیر نے شعبی، حسن بصری، قتادہ، مجاہد اور ضحاک وغیرہ کا قول نقل کیا ہے کہ ان آیات کے نزول کا سبب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو وحی کا علم حاصل کرنے کی کیفیت سکھائی ہے۔ انتہی

مفسرین نے ذکر قیامت کے درمیان ان آیتوں کے آنے کی کئی مناسبتیں بیان کی ہیں، ان میں سے ایک مناسبت یہ ہے کہ جب یہ سورت (ولو القی معاذیرہ) تک نازل ہوئی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاہا کہ اسے جلد یاد کرلیں اور زبان ہلانے لگیتاکہ اس کا کوئی حصہ ضائع نہ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے (لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ) سے (ثم ان علینا بیانہ) تک نازل فرمایا پھر قیامت سے متعلق کلام مکمل کیا۔

(ثم ان علینا بیانہ) کے ضمن میں مفسرین نے لکھا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی 23 سالہ نبوت کی زندگی میں قرآن کریم کی تشریح تو ضیح کے لئے جو کچھ کہا اور کیا اور جتنی باتوں کی تائید کی اور جتنی باتوں سے منع فرمایا، جسے اسلام کی زبان میں " حدیث" کہا جاتا ہے وہ پورا ذخیرہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی کا حصہ تھا اور اگرچہ قرآن نہیں تھا، لیکن قرآن کی مذکورہ بالا آیت میں موجود ربانی وعدے کے مطابق وہ ذخیرہ قرآن کی تشریح اور اس کا بیان تھا اور امت کے لئے آسمانی وحی کی حیثیت سے واجب الاتباع تھا، اللہ تعالیٰ نے سورۃ النجم آیات (3/4) میں اسی بات کی تائید میں فرمایا ہے: (وما ینطق عن الھوی، ان ھوالاوحی یوحی) " اللہ کے نبی اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کہتے ہیں، وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت