31 قیامت کب واقع ہوگی، اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے، حدیث جبریل میں آیا ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو آپ نے جواب دیا کہ پوچھا جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ہے۔ یعنی جس طرح آپ کو معلوم نہیں ہے، اسی طرح مجھے بھی معلوم نہیں ہے اور سورۃ النازعات آیات (42، 43، 44) میں آیا ہے: (یسالونک عن الساعۃ ایان مرسھا فیم انت من ذکر اھا الی ربک منتھانا) " لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں، آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق، اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے" اور سورۃ الاعراف آیت (781) میں آیا ہے: (یسالونک عن الساعۃ ایان مرساھاقل انما علمھا عندرربی لایجلیھا لوقتھا الاھو) " یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا، آپ فرما دیجیے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے اس کے وقت پر اس کو اللہ کے سوا اور کوئی ظاہر نہیں کرے گا۔
اس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے، حتی کہ جو پھل شگوفہ کے غلاف سے باہر آتا ہے، اسے بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور رحم مادر میں جو بچہ پرورش پاتا ہے اور کتنے دنوں کے بعد اس کی ولادت ہوگی اور وہ ناقص ہوگا یا پورا، خوبصورت ہوگا یا بدصورت، ان تمام باتوں کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے۔
اللہ کا علام الغیوب ہونا اور اس کی عظیم قدرت تقاضا کرتی ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے اسی لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں سے پوچھے گا کہ جن معبود ان باطل کو تم میرا شریک بناتے رہے تھے، وہ کہاں ہیں؟ تو وہ کذب بیانی سے کام لیں گے اور کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہم نے تجھے بتا دیا ہے کہ ہم میں سے کوئی اس بات کی گواہی نہیں دیتا تھا کہ تیرا کوئی شریک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت (23) میں فرمایا ہے: (واللہ ربنا ما کنامشرکین) " اس اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے، ہم لوگ مشرک نہیں تھے۔ "
آیت (48) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین جن بتوں اور غیر بتوں کی دنیا میں پرستش کرتے تھے، قیامت کے دن وہ سب ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں گے، کوئی ان کی مدد کے لئے نہیں آئے گا اور انہیں اس وقت یقین ہوجائے گا کہ اب عذاب نار سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔