(1) اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی پانچ ابتدائی آیتوں میں (قول راجح کے مطابق) فرشتوں کی قسم کھائی ہے اور ان یک پانچ قسم کے کاموں اور اوصاف کی وجہ سے انہیں پ انچ قسم کے فرشتے قرار دیا ہے اور جس بات کو انسانوں کے ذہن میں بٹھانے کیلئے قسم کھائی ہے وہ محذوف ہے اس لئے ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے: ان فرشتوں کی قسم جن کے اوصاف اوپر بیان کئے گئے، تم لوگ دوبارہضرور زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان فرشتوں کی قسم ! جو کافر انسانوں کی روحوں کو پوری قوت و شدت کے ساتھ نکالتے ہیں اور ان فرشتوں کی قسم ! جو مومنوں کی روحوں کو تیزی اور نرمی کے ساتھ نکالتے ہیں، اور ان فرشتوں کی قسم ! جو آسمانوں سے اللہ کے احکام واوامرلے کر زمین کی طرف اترتے ہیں، گویا کہ وہ تیرتے ہیں اور ان فرشتوں کی قسم ! جو اللہ کی وحی کی طرف لپکتے ہیں اور شیاطین سے سبقت کر کے اسے اللہ کے رسولوں تک بحفاظت پہنچاتے ہیں، تاکہ شیاطین انہیں چوری چھپے سن نہ لیں اور ان فرشتوں کی قسم جنہیں اللہ تعالیٰ نے عالم بالا و زیریں کے بہت سارے کام سپرد کر رکھے ہیں، جیسے بارش برسانا، پودے اگانا، ہواؤں، سمندروں، حیوانات، رحم مادر میں بچوں کی نگہداشت اور جنت و جہنم وغیرہ کا انتظام و انصرام ان پانچوں قسموں کے فرشتوں کی قسم، تم دوبارہضرور زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے۔