فهرس الكتاب

الصفحة 1398 من 6343

(24) اسلام کی دعوت آنے کے بعد لوگ دو جماعتوں میں بٹ گئے، ایک جماعت نے اس دعوت کو قبول کیا، دنیا کی رنگینیوں اور خواہشات نفس سے ہٹ کر اللہ کی رضا جوئی کو اپنا مقصد حیات بنایا، اور اس کی اس طرح عبادت کی کہ جیسے وہ اللہ کو دیکھ ہے ہوں، ایسے مومنین مخلصین کو اللہ تعالیٰ نے جنت کی خوشخبری دی ہے اور اس سے بھی عظیم تر نعمت دیدار کا وعدہ کیا ہے، امام احمد اور امام مسلم نے صہیب رومی سے روایت کی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور کہا کہ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہوجائیں گے، تو ایک منادی آواز لگائے گا کہ اے اہل جنت ! اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا، جسے اب پورا کرنا چاہتا ہے، وہ لوگ کہیں گے کہ کیا اللہ نے ہمارے ترازوں کو بھاری نہیں بنا دیا، کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیا اور ہمیں جہنم سے ہٹا کر جنت میں داخل نہیں کردیا، اب اور کیا چیز باقی ہے؟ تو اللہ ] پردہ ہٹا دے گا، اور جنتی اسے دیکھنے لگیں گے، اللہ کی قسم، اس نعمت دیدار سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہوگی، اور اس سے بڑھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی کوئی شے نہیں ہوگی۔

اور دوسری جماعت نے دعوت سلام کو ٹھکرا دیا، دنیا کی رنگینیوں میں کھو گئے اور شرک و معاصی کا ارتکاب کیا، ایسے لوگوں کو اللہ نے جہنم کی خوشخبری دی ہے، جس سے بڑح کر کوئی ذلت و رسوائی نہیں ہوگی، اور اللہ کے اس عذاب سے کوئی انہیں نہیں بچا سکے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت