فهرس الكتاب

الصفحة 2895 من 6343

(7) عقیدہ بعث بعد الموت کی تاکید کے طور پر اللہ نے فرمایا کہ جب وہ میدان محشر میں مشرکین اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا، تو ان معبودوں سے وہ پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا، یا وہ خود ہی گمراہ ہوگئے تھے؟ تو وہ معبود کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! تو تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے جب ہمارے لیے یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں تھا کہ تیرے سوا کسی کو اپنا ولی اور دوست بناتے اور اس کی عبادت کرتے، تو پھر یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ہم نے غیروں کو یہ حکم دیا ہوگا کہ تم لوگ اللہ کے سوا ہمیں ولی بنا لو اور ہماری عبادت کرو، بات یہ ہے کہ تو نے انہیں گونا گوں نعمتوں سے نوازا تھا، تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ تیرا شکر ادا کرتے اور تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے، لیکن نتیجہ الٹا رہا یعنی وہ شہوتوں میں ڈوب گئے اور تجھے بھول گئے، اور اس طرح ہلاکت و بربادی ان کی قسمت بن گئی۔

آیت (19) میں انہیں مشرکین کو مخاطب کر کے اللہ نے کہا کہ جنہیں تم اپنا معبود کہتے تھے اور جن کی عبادت کرتے تھے، انہیں معبودوں نے تمہیں جھٹلا دیا، اس لیے اب تم نہ عذاب کو اپنے آپ سے ٹال سکتے ہو اور نہ ہی کوئی تمہاری مدد کے لیے آگے بڑھے گا، آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ جو کوئی شرک کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر ظلم کرے گا وہ اسے بہت بڑے عذاب میں مبتلا کرے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت