فهرس الكتاب

الصفحة 2411 من 6343

(18) دونوں بھائیوں نے اللہ کا یہ حکم پانے کے بعد جب حالات پر غور کیا اور اپنی بے کسی اور فرعون کے قہر و جبروت کا تصور کیا تو انسانی فطرت کے مطابق ڈرے، اور اس کا اپنے رب سے اظہار کرتے ہوئے کہا، اے ہمارے رب ! ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں فرط غضب میں وہ ہمیں قتل نہ کردے یا کوئی سخت سزا دے دے، یا اس کی سرکشی اور بڑھ جائے اور تیری شان و عظمت کے خلاف کوئی بات نہ کر بیٹھے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اطمینان دلایا، اور کہا کہ ڈرنے کی ایسی کوئی بات نہیں، میں آپ دونوں کے ساتھ رہوں گا آپ دونوں اور اس کے درمیان جو گفتگو ہوگی اور جو کچھ وقوع پذیر ہوگا اسے میں سنوں گا اور دیکھوں گا اور آپ دونوں کی حفاظت کرتا رہوں گا، اس لیے آپ دونوں اس کے پاس جایئے، اور اس سے کہیے کہ ہم دونوں تمہارے رب کے پیغامبر ہیں، تمہارے پاس اس لیے بھیجے گئے ہیں تاکہ تم بنی اسرائیل کو قید و بند سے آزاد کردو، انہیں عذاب دینا بند کردو اور ہمارے ساتھ انہیں ہمارے وطن فلسطین جانے دو، اور یہ بھی کہیے کہ ہمارے پاس تمہارے رب کی جانب سے ہمارے رسول ہونے کی دلیل یعنی معجزے موجود ہیں، حکیمانہ اسلوب اختیار کرتے ہوئے اس سے کہیے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس کے بھیجے ہوئے دین کی اتباع کرے گا وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور جو اس کی نشانیوں کی تکزیب کرے گا اور اس کے دین سے روگردانی کرے گا وہ اس کے عذاب کا مستحق ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت