فهرس الكتاب

الصفحة 2849 من 6343

24۔ مفسر ابو السعود لکھتے ہیں: چونکہ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بارے میں فرمایا کہ اس میں تمام عبادات، معاملات اور آداب زندگی کو کھول کر بیان کردیا گیا ہے، ان احکام پر عمل کرنے والوں اور ان کا انکار کرنے والوں کا ثواب و عقاب بھی بیان کردیا گیا ہے، اس لیے اب انہی دونوں اچھی اور بری جماعتوں کے بعض اعمال کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اچھی جماعت ان لوگوں کی ہے جو صبح و شام اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی مسجدوں میں ذکر و تسبیح میں مشغول رہتے ہیں، جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد، اقامت نماز اور ادائیگی زکوۃ سے غافل ہیں کرتی ہے۔ اور دوسری جماعت ان لوگوں کی ہے جن کا ذکر آیات (39، 40) میں آیا ہے، کہ کافروں کے اعمال کی مثال اس سراب کی ہے جسے پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے، لیکن جب وہاں پہنچتا ہے تو اسے یاس و حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا، یعنی قیامت کے دن بغیر ایمان ان کے اعمال کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی، اور اللہ ان کے کفر اور برے اعمال کا پورا پورا حساب انہیں چکا دے گا، یعنی جہنم میں دھکیل دے گا۔

کافروں کے کفر، عقیدہ باطل اور ان کے برے اعمال کی ایک دوسری مثال وہ گھٹا ٹوپ تاریکی ہے جو کالی رات میں گہرے سمندر میں ہوتی ہے جس میں یکے بعد دیگرے موجیں اٹھتی رہتی ہیں اور اوپر آسمان پر کالا بادل ہوتا ہے، گویا تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے، ایسی شدید اور بھیانک تاریکی ہوتی ہے کہ اس رات کا مسافر سمندر میں خود اپنا ہاتھ نہیں دیکھ پاتا ہے، اس دنیا میں کافر کا بھی یہی حال ہوتا ہے کہ اس کی زندگی میں کئی ظلمتیں جمع ہوجاتی ہیں، کفر کی ظلمت، برے اعمال کی ظلمت، باطل کی ظلمت، رب العالمین کو نہ پہچاننے کی ظلمت اور اپنے انجام سے بے خبر ہونے کی ظلمت، وہ انہی تاریکیوں میں بھٹکتا رہتا ہے یہاں تک کہ موت اسے آدبوچتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آیت (40) کے آخر میں فرمایا کہ ان ظلمتوں کو دور کرنے کا علاج واحد اللہ کا دین، اس کا قرآن اور اس کے نبی کی اتباع ہے جسے یہ نور حاصل نہیں ہوگا اس کی تاریکی ہرگز دور نہیں ہوگی۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلی مثال روسائے کفر کی ہے، جو کفر و ضلالت پر قائم رہتے ہیں اور دوسروں کو اس کی طرف بلاتے ہیں۔ اور دوسری مثال ان کافروں کی ہے جو بغیر سوچے سمجھے صرف اپنے روسا کی پیروی کرتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت