(25) مکہ میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ہوا اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا تو ان کا کوئی قصور نہیں تھا، سوائے کہ انہوں نے اس بات کا اقرار کرلیا تھا کہ ان کا رب صرف اللہ ہے، اسی لیے مدینہ آنے کے بعد جب ان کی ایک طاقت وجود میں آگئی تو اللہ نے انہیں جہاد کی اجازت دے دی، تاکہ ان پر جو ظلم ہوا تھا اس کا بدلہ لے سکیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہاد کی حکمت بیان فرمائی کہ اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد کی اجازت نہ دیتا اور مسلمانوں کے ذریعہ مشرکوں کو مار نہ بھگاتا تو ہر دور میں مشرکین اہل ادیان پر غالب آجاتے اور ان کی عبادت گاہوں کو منہدم کردیتے اور جو اللہ کے دین کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے، اور اللہ پر کون غالب آسکتا ہے وہ تو نہایت قوی اور ہر حال میں غالب ہے وہ جس کی مدد کرنی چاہے ساری دنیا مل کر اسے مغلوب نہیں کرسکتی۔
آیت (41) میں اللہ کے دین کی مدد کرنے والوں کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ جب ان کے ہاتھوں میں حکومت آجاتی ہے تو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمام امور میں عدل و انصاف کے ساتھ وہی فیصلہ کرے گا، اس لیے اس سے ہر حال میں ڈرتے رہنا چاہیے۔