فهرس الكتاب

الصفحة 1596 من 6343

(93) آیت (112) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم اور مسلمانوں کو دین پر استقامت کا حکم دیا ہے، چونکہ نماز ایمان کی جڑ اور استقامت کا اہم ترین مظہر ہے، اسی لیے یہاں اس کا ذکر خصوصی طور پر آیا ہے، اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو حکم دیا ہے کہ وہ دن کے شروع اور آخر میں اور آخری پہر رات میں نماز پڑھا کریں، ابن جریر کے نزدیک اس سے مراد فجر، مغرب اور رات کی آخری پہر کی نماز ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ممکن ہے یہ آیت پنجگانہ نمازوں سے پہلے نازل ہوئی ہو، جب طلوع شمس اور غروب شمس کے قبل صرف دو نمازیں واجب تھیں، اور قیام اللیل آپ اور تمام مسلمانوں پر واجب تھا، اس کے بعد عام مسلمانوں سے قیام اللیل کا وجوب ساقط ہوگیا اور آپ کے لیے اس کا وجوب باقی رہا، پھر کچھ دنوں کے بعد ایک قول کے مطابق آپ سے بھی اس کا وجوب ساقط ہوگیا۔ واللہ اعلم۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں، اور چونکہ نیکیوں میں نماز کا درجہ بہت ہی اونچا ہے، اس لیے یہ یقینا برائیوں کو مٹا دیتی ہے۔ امام احمد اور اصحاب سنن نے علی بن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ جب کسی مومن سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوجاتا ہے اور وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لیتا ہے تو اس کا وہ گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔

اس آیت کے شان نزول میں امام بخاری و مسلم وغیرہ نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں شہر کے مضافات میں ایک عورت کا علاج کر رہا تھا، تو اسے بغیر چھوئے مجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوگیا یعنی میں نے اس کا بوسہ لے لیا، جیسا کہ بعض روایتوں میں اس کی صراحت آئی ہے، آپ میرے بارے میں اپنا حکم صادر فرما دیں، آپ خاموش رہے وہ آدمی جانے لگا، تو آپ نے اسے بلا لیا اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔ یعنی اس گناہ کے بعد تم نے جو نیک عمل کیا ہے اس نے اس گناہ کو ختم کردیا ہے۔ یہ دیکھ کر ایک صحابی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حکم اسی کے ساتھ خاص ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے، امام مسلم نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: آدمی جب تک کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے گا اس کی ہر دو نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ بنتی رہیں گی۔

آیت (115) میں نبی کریم کو ان تمام مشقتوں پر صبر کی بالعموم تلقین کی گئی ہے جو دعوت و تبلیغ کی راہ میں پیش آئیں، اور بالخصوص ان مشقتوں پر جو نمازوں کی پابندی اور محدود اوقات میں ان کی ادائیگی کے لیے اٹھانی پڑے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ طہ آیت (132) میں فرمایا ہے ( واصطبر علیھا) کہ آپ نمازوں کی ادائیگی پر صبر کریں اور اس پر جمے رہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت