(22) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جا رہا ہے کہ آپ کفار مکہ کی سفیہمانہ باتوں اور ان کی کذب بیانیوں کا جواب نہ دیجیے اور پورے انہماک کے ساتھ دعوت و تبلیغ کے کام میں لگے رہئے اور اللہ کے فیصلے کا انتظار کیجیے، وہ یقیناً آپ کو فتح و نصرت دے گا اور آپ کے دشمنوں کو رسوا کرے گا، اگرچہ کفار مکہ بھی آپ کے بارے میں بری خبر سننے کا انتظار کر رہے ہیں اتکہ ان کے زعم باطل کے مطابق آپ کے دشمنوں کو رسوا کرے گا، اگرچہ کفار مکہ بھی آپ کے بارے میں بری خبر سننے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ان کے زعم باطل کے مطابق آپ سے ان کو چھٹی مل جائے، لیکن اللہ کے فیصلے پر کس کا فیصلہ غالب آسکتا ہے۔