فهرس الكتاب

الصفحة 1440 من 6343

(50) مشرکین کی ایک نہایت ہی دل آزار بات یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرتے تھے، کہتے تھے کہ یہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اسی طرح یہود کہتے تھے کہ عزیر اللہ کے بیٹا ہیں، اور نصاری کہتے تھے کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹا ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول باطل کی تردید کی اور کہا کہ وہ اس بہتان سے یکسر پاک ہے، اس لیے کہ وہ غنی ہے کسی چیز کا محتاج نہیں ہے، اولاد تو اس کی ہوتی ہے جو محتاج ہوتا ہے، اور وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور اولاد تو اسے چاہیے جسے ختم ہوجانا ہے، تاکہ لڑکا اس کی جگہ لے سکے، اور اس لیے کہ آسمان و زمین کی ہر شے کو اسی نے پیدا کیا ہے، اور اسی کی ملکیت ہے، تو پھر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ آقا اپنے ایک غلام کو اپنا بیٹا بنا لے، اور اس لیے بھی کہ مشرکین کے پاس اس باطل دعوی کی کوئی دلیل نہیں ہے، محض کم عقلی اور جہالت کی بنیاد پر ایسی باتیں کرتے ہیں۔

اس کے بعد آیات (69، 70) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم سے فرمایا کہ آپ مشرکین سے کہہ دیجیے کہ یہ اللہ پر افترا پردازی ہے، اور مفتری کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا، اور اگر وقتی طور پر ان کا کوئی مقصد حاصل ہو بھی جائے تو وہ دنیاوی حقیر سا فائدہ ہوگا، بالاخر انہیں مرنے کے بعد اللہ کے پاس جانا ہے، جہاں وہ ان کے کفر اور افترا پردازی کی سخت سزا دے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت