فهرس الكتاب

الصفحة 1904 من 6343

(37) اور کفار قریش سے کہہ دیجیے کہ میں اللہ کی طرف سے لوگوں کو ایسے دردناک عذاب سے ڈرانے والا ہوں جیسا عذاب اللہ نے قوم صالح کے ان کافروں پر نازل کیا تھا جنہوں نے ان کی مخالفت اور تکذیب کی تھی اور انہیں قتل کرنے کی آپس میں قسم کھائی تھی۔ سورۃ النمل آیت (49) میں اللہ تعالیٰ نے انہی کافروں کے بارے میں فرمایا ہے: (قالوا تقاسموا باللہ لنبیتنہ واھلہ ثم لنقولن لولیہ ما شھدنا مھلک اھلہ وانا لصادقون) انہوں نے آپس میں بڑی قسمیں کھا کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے اور اس کے وارثوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں۔

فراء کا قول ہے کہ مقتسمون سے مراد وہ سولہ کفار قریش ہیں جنہیں ولید بن مغیرہ نے مکہ میں داخل ہونے کے راستوں پر متعین کیا تھا، تاکہ وہ ہر آنے والے کو اسلام اور رسول اللہ سے برگشتہ کریں۔ ایک تیسرا قول یہ ہے کہ ان سے مراد کفار قریش کے وہ لوگ ہیں جو قرآن کریم کا مذاق اڑانے کے لیے اس کی سورتوں کو آپس میں بانٹتے تھے، اور کہتے تھے کہ یہ سورت میری ہے اور یہ تیری چوتھا قول یہ ہے کہ ان سے مراد قریش کے وہ لوگ ہیں جو قرآن کریم کی تقسیم کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کا بعض حصہ شعر، بعض جادو اور بعض گزشتہ قوموں کے واقعات ہیں، پانچواں قول یہ ہے کہ ان سے مراد یہود و نصاری ہیں، جنہوں نے قرآن کریم کے بعض حصہ کی تصدیق کی اور بعض کا انکار کردیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت