(4) اس آیت کریمہ میں بنی تمیم کے ان سخت دل اور بد اخلاق افراد کی برائی بیان کی گئی ہے۔ جنہوں نے امہات المومنین کے کمروں کے پاس آ کر زور زور سے یا محمد ! یا محمد ! کی آواز لگائی تھی۔
محمد بن اسحاق نے 9 ھ کے واقعات میں لکھا ہے کہ فتح مکہ، فتح تبوک، اور بنو ثقیف کے مسلمان ہوجانے کے بعد، ہر چہار جانب سے قبائل عرب کے فود آنے لگے، انہی میں ایک وفد بنی تمیم کا تھا ان لوگوں نے مسجد میں داخل ہوتے ہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کمروں کے باہر سے پکارنا شروع کیا اور کہا: اے محمد ! باہر نکل کر ہمارے پاس آؤ، ان کی چیخ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف ہوئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہرتشریف لائے انب اسحاق نے ان سے متعق طویل روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ انہی کے بارے میں قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی تھی۔
مسند احمد کی صحیح روایت میں ہے کہ پکارنے والے کا نام " اقرع بن حابس" تھا حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ آیت اقرع بن حابس تمیمی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
آپ (5) میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہایت با ادب رہنے کی تعلیم دینے کے لیے فرمایا کہ اگر وہ لوگ صبر کرتے اور ادب کے ساتھ مسجد میں بیٹھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکلنے کا اتنظار کرلیتے تو ان کے لئے دنیاوی اور اخروی دونوں اعتبار سے بہت بہتر ہوتا۔
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: علماء کا قول ہے کہ جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں آپ کے حضور اونچی آوا زسے بات کرنے کی ممانعت تھی، اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے پاس آواز بلند کرنا ممنوع ہے، اس لئے کہ آپ جس طرح زندگی میں واجب الاحترام تھے، مرنے کے بعد اپنی قبر میں بھی واجب الاحترام ہیں۔ امیر المومنین عمر بن خطاب (رض) کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں دو آدمی کو اونچی آواز سے بات کرتے سنا، تو ان پر کنکری پھینک کر اپنی طرف متوجہ کیا اور پوچھا کہ تم دونوں کہا کے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم طائف کے ہیں، تو عمر (رض) نے کہا کہ اگر تم مدینہ کے ہوتے تو تمہاری پٹائی کردیتا۔