(10) اس دن آخرت کی تکذیب کرنے والے کافروں سے کہا جائے گا کہ یہی وہ فیصلے کا دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، آج ہم نے میدان محشر میں تمہیں اور تم ہی جیسے ماضی میں یوم آخرت کی تکذیب کرنے والوں کو جمع کردیا ہے، اگر اپنی نجات کے لئے کوئی بھی تدبیر کرسکتے ہو تو میرے عذاب سے بچنے کے لئے کر ڈالو۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ اس انداز کلام سے مقصود جہنمیوں کو روحانی عذاب دینا ہوگا۔ جو جسمانی عذاب سے زیادہ سخت ہوگا، ورنہ معلوم ہے کہ اس دن جہنمی بے یارو مددگار ہوں گے، ان کے دل و دماغ پر حسرت و ناامیدی کا ایک کثیف بادل چھایا ہوگا، اور اپنی نجات سے قطعی طور پر ناامید ہوچکے ہوں گے۔
اس دن ہلاکت و بربادی ہوگی ان کافروں کے لئے جو اللہ کے رسول، اس کی کتاب اور روز آخرت کو جھٹلاتے ہیں۔