فهرس الكتاب

الصفحة 1148 من 6343

(118) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ اللہ کے لیے اپنی عبودیت کا اعلان کردیں اور اپنے بارے میں لوگوں کو بتا دیں کہ آپ غیبی امور کی کوئی چیز نہیں رکھتے۔، آپ کو صرف وہی باتیں معلوم ہیں جن کی خبر اللہ نے آپ کو بذریعہ وحی دی ہے، سورۃ یونس آیات (48/49) میں بھی یہی بات کہی گئی ہے، مزید تاکید کے طور پر کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب کا علم نہیں تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کی زبان میں فرمایا کہ اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو پہلے سے ہی اسباب مہیا کر کے اپنے لیے فوائد ومنا فع جمع کرلیتا مثلا قحط سالی کے زمانے کے لیے زرخیزی اور خوشحالی کے ایام میں ہی تیار کرلیتا تو مجھے کوئی تکلیف نہ لاحق ہوتی لیکن ایسا نہیں کرسکتا دلیل اس بات کی کہ میں غیب کا علم نہیں رکھتا ہوں میں تو اللہ کی وحی کے مطابق اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو صرف اس کا پیغام پہنچانے آیا ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت