(4) اللہ تعالیٰ نے اپنے مزید مظاہر قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: لوگو ! ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں جن کی ساخت بہت ہی محکم اور مضبوط ہے، زمانے کی گردش ان میں اثر انداز نہیں ہوتی ہے جب سے اللہ نے انہیں بنایا ہے اب تک ان میں کوئی سوراخ یا شگاف نہیں پدیا ہوا ہے۔ جوں کے توں ہیں اور رہیں گے، یہاں تک کہ جب قیامت آئے گی تو وہ اللہ کے حکم سے زوال پذیر ہوجائیں گے۔
اور ہم نے آفتاب کو پیدا کیا ہے جو دنیا والوں کو دن کی روشنی دیتا ہے اور اس میں تمازت و حرارت ہے جس کے سبب پھل پکتے ہیں اور دیگر کئی منافع ہیں۔
اور ہم بادلوں سے موسلا دھار بارش برساتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعہ گیہوں، جو، باجرہ، چاول اور دیگر دانے نکالیں جنہیں انسان کھاتے ہیں اور ان پودوں کو نکالیں جنہیں ان کے مویشی کھاتے ہیں اور گھنے درختوں کو پیدا کریں جن کی ڈالیں آپس میں گتھی ہوتی ہیں اور جن سے مختلف الانواع پھل پیدا ہوتے ہیں۔
یہ تمام چیزیں دلیل ہیں کہ ان کا خالق ایسی قدرت والا ہے جسسے بڑھ کر کوئی قدرت نہیں اور ایسا علیم ہے جس کا علم ہر چیز کو محیط ہے اور ایسا حکیم ہے جس کا کوئی فعل حکمت سے خالین ہیں اور ایسا رحیم ہے جس کی رحمت اس کی تمام مخلوق کے لئے عام ہے، جو اللہ ایسی قدرت، ایسے علم اور ایسی حکمت و رحمت والا ہے، اس کے بارے میں نادان منکرین آخرت کیسے گمان کرتے ہیں کہ وہ انسانوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اور انیں ان کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ نہیں دے گا، یہ کیسی نامعقول سی بات ہے کہ ظالم و مجرم اس دنیا میں دندناتے پھریں، جو چاہیں کریں اور کوئی دوسری زندگی نہ ہو جہاں انہیں ان کے کرتتوں کا بدلہ ملے۔ یقیناً ایک دوسری زندگی ہے، جس میں انسانوں کا خالق و مالک ان سے حساب لے گا اور انہیں جزا و سزا دے گا۔