فهرس الكتاب

الصفحة 4433 من 6343

(30) دنیا میں جن کی دوستی کی بنیاد معصیت، فساد انگیزی، حق سے دشمنی اور دیگر مادی اور شہوانی اغراض و مقاصد پر ہے، قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور آپس میں اظہار نفرت کرنے لگیں گے، اس لئے کہ وہ ساری باتیں ان کے عذاب کا سبب بنتی نظر آئیں گی، تو ان کی دوستی دشمنی میں بدل جائے گی، البتہ جو لوگ یہاں اللہ سے ڈرتے ہیں اور آپس میں اللہ اور اس کے رسول کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن بھی ایک دوسرے سے محبت کریں گے، اس لئے کہ دنیا میں جن دینی اغراض و مقاصد پر ان کی آپس کی محبت کی بنیاد تھی، اس دن وہ ساری باتیں ان کے ثواب و نجات کا سبب بن جائیں گی، اس لئے ان کی آپس کی محبت اور بڑھ جائے گی اور ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہے گی۔ جب اللہ تعالیٰ انہیں پکار کر کہے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے بعد تمہیں کوئی خوف اور کوئی حزن و ملال لاحق نہیں ہوگا۔

آیت (69) میں اللہ تعالیٰ نے ان خوش قسمت بندوں کی کچھ صفات بیان کر کے وضاحت کردی کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں اللہ کی کتابوں اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہیں اور یہودیت نصرانیت اور بت پرستی کے بجائے دین ابراہیمی یعنی دین اسلام پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان سے مزید کہے گا کہ اے میرے بندو ! تم اپنی نیک بیویوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ، جہاں تمہیں ایسی فرحت و شادمانی ملے گی کہ تمہارے چہرے کھل اٹھیں گے یہی بات سورۃ المطففین کی آیت (24) میں یوں کہی گئی ہے: (غرف فی وجودھھم نصرۃ النعیم) " آپ ان کے چہروں سے ہی نعمتوں کی تروتازگی پہچان لیں گے۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت