(23) اوپر گذر چکا ہے کہ کفار قریش نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کی تمنا کرتے تھے اور انہوں نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لئے آپ کو قتل بھی کرنا چاہا اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اطمینان دلایا کہ آپ کا رب آپ کے لئے یقیناً کافی ہے، اس لئے کفار آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے اور ان کی سازشیں دھری کی دھری رہ جائیں گی اور وہ لوگ اپنی غایت جہالت ونادانی میں آپ کو اپنے بتوں سے ڈراتے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ بت آپ کو قتل کروا دیں گے یا جنون میں مبتلا کردیں گے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ جس کو گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، جیسے کفار مکہ ہیں اور جسے اللہ ہدایت دے جیسے آپ ہیں، اسے راہ راست سے کوئی بھٹکا نہیں سکتا اور اللہ بڑا زبردست اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی پوری قدرت رکھتا ہے، اس لئے اگر کفار قریش اس کے رسول کی ایذا رسانی اور اپنے کفر و عناد سے باز نہ آئے تو وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے کر رہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کفار مکہ میدان بدر میں جس طرح ذلیل و رسوا کئے گئے تاریخ کے اوراق پر شاہید ہیں۔ اور بالاخر مکہ فتح ہوا اور کافروں کی طاقت ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گئی۔