(13) اوپر مومن لڑکے کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں، اب کافر لڑکے اور اس کی بد اعمالیوں کو بیان کیا جا رہا ہے کہ جب اس کے والدین نے اسے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے اور نیک عمل کرنے کی دعوت دی تو اس نے ان سے کہا کہ میں تم سے اور تمہاری باتوں سے تنگ آچکا ہوں، کیا تم مجھے اس بات کا یقین دلانا چاہتے ہو کہ مرنے کے بعد اپنی قبر سے دوبارہ اٹھایا جاؤں گا، حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں آئیں اور گذر گئیں اور کوئی واپس نہیں آیا ماں باپ اس کی کافرانہ باتیں سن کر اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے توفیق ایمان کی دعا کرنے لگے اور اس سے کہنے لگے کہ اپنی ہلاکت و بربادی سے بچو، ایمان لے آؤ، اللہ کے وعدہ آخرت کی تصدیق کرو اور اقرار کرلو کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے اللہ کا اپنی مخلوق سے یہ وعدہ برحق ہے کہ وہ انہیں ان کی قبروں سے زندہ اٹھا کر میدان محشر میں لاکھڑا کرے گا، تاکہ ان کے اعمال کا انہیں بدلہ چکائے۔ کافر لڑکے نے اپنے ماں باپ کی نصیحت کو ٹھکرا دیا اور اللہ کے وعدہ آخرت کی تکذیب کرتے ہوئے کہا کہ بعث بعد الموت کا عقیدہ گزشتہ قوموں میں رائج ایک افسانہ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آیت (18) میں انہی بعث بعد الموت اور آخرت کا انکار کرنے والوں کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے لئے اللہ کا عذاب واجب ہوگیا، جس کی صراحت سورۃ ص آیت (85) میں کردی گئی ہے: (لاملان جھنم منک وممن تبک منھم اجمعین)
اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے کہا کہ " میں تم سے اور تمہاری پیروی کرنے والوں سے جہنم کو بھر دوں گا" اور اس آیت کریمہ کے دوسرے حصہ میں بھی اس کی صراحت کردی گئی ہے اور آخر میں کہا گیا ہے کہ اصل گھاٹا پانے والے یہی منکرین قیامت ہیں کہ انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اختیار کرلی ہے۔
آیت (19) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دونوں قسم کے لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے۔ اہل جنت اپنے اعمال کے مطابق درجات طے کرتے ہوئے بلندی کی طرف چلے جائیں گے اور اہل جہنم اپنے گناہوں کے مطابق اسفل السلافلین کی طرف گرتے چلے جائیں گے اور دونوں فریقوں میں سے کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔ ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔