(27) میدان محشر میں مشرکین کا حال زار بیان کرنے کے بعد ان کے شرک کے خلاف دلائل و براہین پیش کئے جارہے ہیں، اور انہیں دعوت فکر و نظر دی جارہی ہے، کہ جب تم اعتراف کرتے ہو کہ وہی ذات واحد سب کا روزی رساں ہے، اسی نے سننے اور دیکھنے کی صلاحیت دی ہے، وہی زندہ کر مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے، یعنی پھل کو گٹھلی سے اور گٹھلی کو پھل سے، مومن کو کافر سے اور کافر کو مومن سے، انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے نکالتا ہے اور وہی سارے جہاں کا تنہا مدبر ہے، تو پھر تمہیں کیسے ڈر نہیں لگتا ہے کہ اسے چھوڑ کر غیروں کی پرستش کرتے ہو؟
آیت (32) میں اسی مضمون کو مزید تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ جو اللہ سارے جہاں کا پالنے والا ہے، اور جو ان تمام امور کا فاعل حقیقی ہے جن کا اوپر ذکر ہوا ہے وہی تمہارا معبود حقیقی ہے، اور حق و باطل کے درمیان کوئی تیسری راہ نہیں ہے، اس لیے اس کے علاوہ کوئی بھی معبود نہیں ہے، تو اے مشرکین تم توحید باری میں اللہ تعالیٰ کی راہ چھوڑ کر کیوں شرک کی راہ پر چلے جارہے ہو۔