فهرس الكتاب

الصفحة 1236 من 6343

(58) اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مال غنیمت حلال کردیا اس کی تائید صحیحین کی جابر بن عبد اللہ (رض) سے مروی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ میرے لیے مال غنیمت حال کردیا گیا ہے مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہی کیا گیا اس آیت کے نازل ہونے کے بعد صحابہ کرام کو اطمینان ہوا اور فدیہ کے طور پر جو مال قیدیوں سے لیا تھا اسے استعمال کیا۔ ابو داؤدنے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ارسول اللہ صلی اللہ علیہو سلم نے بدر کے قیدیوں سے چار سو فی کس فدیہ لیا تھا۔

حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ جمہور علماء کے نزدیک قیدیوں کے بارے میں ہر دور میں یہی حکم جاری رہا ہے اور امام وقت کو اختیار رہا حالات کے تقاضے کے مطابق چاہ اتو قتل کیا جیساکہ بنو قریظہ کے مقاتلین کو قتل کردیا گیا، اور چاہا تو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جیسا کہ کہ برد کے قیدیوں کے ساتھ کیا گیا اور کبھی مسلمان قیدیوں کے بد لے میں چھوڑدیا جیسا کہ ایک لونڈی اور اسکی لڑکی کو جسے سلمہ بن الاع نے قید کیا تھا کچھ مسلمان قیدیوں کے بدلے میں آزاد کردیا گیا اور کبھی کسی کو غلام بنالیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت