(29) مشرکین مکہ سے زجر و توبیخ کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ اللہ سے تمہاری دوری اور روز قیامت کی تیاری سے تمہاری غفلت کس قدر بڑھ چکی ہے کہ تم قرآن کریم کی تکذیب کرتے ہو اور اس کا مذاق اڑاتے ہو، حالانکہ ہونا تو یہ چاہئیت ھا کہ کافروں اور مشرکوں کے لئے اس میں مذکور و عید شدید کو سن کرتم روتے اور ماضی میں تم سے جو گناہ سر زد ہوئے ہیں انہیں یاد کر کے اپنے رب کے سامنے گریہ و زاری کرتے، جیسا کہ وہ لوگ کرتے ہیں جو قرآن کریم کے وحی الٰہی ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاسراء آیت (109) میں ان کے بارے میں فرمایا ہے: (ویخرون للاذقان یبکون ویزیدھم خشوا) " یعنی جب ان کے سامنے رآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو) وہ اپنی ٹھڈیوں کے بل روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی اور خشوع و خضوع کو بڑھا دیتا ہے۔ "
آیت (61) میں " سامدون" کی تفسیر ابن عباس (رض) نے " گانا" کیا ہے، یعنی کفار مکہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن پڑھتے سنتے تو گانے لگتے اور کھیل تماشا کرنے لگتے تھے۔ سدی نے اس کی تفسیر " یستکبرون" کیا ہے، یعنی جب وہ لوگ قرآن سنتے تو مارے تکبر کے ان کی گردنیں اکڑ جاتی تھیں۔
حافظ سیوطی نے " الاکلیل" میں لکھا ہے، اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم پڑھتے وقت رونا مستحب ہے اور ہنسنا، گانا، لہو لعب اور غفلت میں مبتلا ہونا مذموم ہے۔