فهرس الكتاب

الصفحة 4315 من 6343

(2) یعنی آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس پر پہلی بار اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی ہے، آپ سے پہلے بہت سے انبیاء آئے جن پر اللہ نے اپنی وحی نازل کی تھی اور اہل مکہ اس بات سے خوب واقف ہیں، اس لئے اگر اللہ نے آپ پر وحی نازل کی ہے تو انہیں تعجب کیوں ہے۔ سورۃ النساء آیت (136) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح و النبین من بعدہ واوحینا الی ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب والاسباط وعیسی و ایوب و یونس و ہارون و سلیمان و اتیناد اوددزبورا) " یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے نوح اور ان کے بعد آنے والے نبیوں کی طرف کی، اور ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ "

اس قرآن کو بذریعہ وحی آپ پر اس اللہ نے نازل کیا ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اور اس کا کوئی قول و فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے وہ سب سے اعلیٰ اور سب سے اعلیٰ اور سب سے عظیم ہے اس کی عظمت تو وہ عظمت ہے اور اس کا جلال تو وہ جلال ہے کہ جس کی تاب نہ لا کر اگر آسمان پھٹ کر ایک دوسرے پر گر جائیں تو کوئی حیرت کی بات نہیں۔

وہ تو وہ ہے جس کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اس کی عظمت و کبریائی کا گن گانے میں تمام فرشتے ہر لمحہ اور ہر آن مشغول رہتے ہیں اور اہل ایمان بندگان رب العالمین کے لئے دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں، اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ بڑا مغفرت کرنے والا اور اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت