25۔ ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے رب کی تعریف، اس کی حمد و ثنا اور اس کی گوناگوں نعمتوں کو بیان کرچکے، تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھا دئیے، اور نہایت عجز و انکساری کے ساتھ کہا، میرے رب ! مجھے علم و فہم میں کمال عطا فرمایا، اور انبیاء کی طرح عمل صالح کی توفیق دے، اور جنت میں ان کا مجھے ساتھی بنا، اور دوسروں کے لیے جھے خیر کا نمونہ بنا، اور آئندہ آنے والی نسلوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھ۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی، جس کے نتیجے میں تمام ادیان والے ان سے محبت کرتے ہیں، اور ان کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ امام مالک نے اس آیت سے اور اسی جیسی دیگر آیتوں سے استدلال کیا ہے کہ اگر عمل صالح سے انسان کی نیت اللہ کی رضا حاصل کرنی ہو اور یہ بھی چاہے کہ دنیا والے اسے اچھا کہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
انہوں نے اپنی دعا میں یہ بھی کہا، میرے رب ! مجھے بے شمار نعمتوں والی جنت کا وارث بنا۔ یعنی ان میں سے بنا جنہیں تو بغیر محنت و مشقت کیے جنت عطا فرمائے گا، جیسے انسان کو وراثت بغیر محنت کیے حاصل ہوتی ہے اور میرے رب ! میرے باپ کی مغفرت فرما دے، اس لیے کہ اس نے جہالت و نادانی کی وجہ سے تیرے ساتھ غیروں کو شریک بنایا ہے۔
حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے یہ دعا، اور سورۃ ابراہیم آیت 41 میں مذکور دعا، اس وقت کی تھی جب انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے، جیسا کہ سورۃ التوبہ آیت 114 میں گذر چکا ہے۔
ابراہیم نے اپنی دعا میں یہ بھی کہا کہ میرے رب ! جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے، اس دن لوگوں کے سامنے مجھے رسوا نہ کرنا، یا قیامت کے دن مجھے عذاب نہ دینا، جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، صرف وہ آدمی جہنم کے عذاب سے بچ سکے گا جس کا دل دنیا میں کفر و شرک، نفاق اور دیگر مذموم اخلاق و عادات سے محفوظ ہوگا، ایسے ہی آدمی کا نیک عمل قیامت کے دن اس کے کام آئے گا۔