فهرس الكتاب

الصفحة 4417 من 6343

(22) جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے عذاب الٰہی ٹل گیا، تو فرعون اپنے دل میں ڈرا کر کہیں لوگ واقعی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، اسی لئے اس نے پینترا بدلتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ کیا میں حکومت مصر کا مالک نہیں ہوں، کیا دریائے نیل کی چاروں شاخیں میرے محل کے پاس سے نہیں گذرتی ہیں، کیا تم لوگ میری ان تمام نعمتوں اور قدرتوں کا مشاہدہ نہیں کرتے ہو، تو پھر میں بہتر ہوں، یا یہ حقیر انسان (یعنی موسی) جو اپنی خدمت آپ کرتا ہے اور اپنا مافی الضمیر ادا کرنے سے قاصر و عاجز ہے۔

اگر یہ واقعی کسی کا پیغمبر ہے اور بڑا آدمی ہے تو اس کے بھیجنے والے نے اسے سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنا دیئے ہیں، تاکہ دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا کہ واقعی یہ کوئی بڑا انسان ہے، یا پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس کے ساتھ کچھ فرشتوں کو بھیجا ہوتا جو ہر دم اس کے ساتھ رہتے اور اس کی نبوت کی گواہی دیتے۔

فرعون نے اپنی قوم کے دل میں یہ بات ڈالنی چاہی کہ رسول کو بڑی شان و شوکت والا اور فرشتوں سے گھرا ہوا ہونا فرعون نے اپنی قوم کے دل میں یہ بات ڈالنی چاہی کہ رسول کو بڑی شان و شوکت والا اور فرشتوں سے گھرا ہوا ہونا چاہئے، چنانچہ اس کی شیطانی چال کام کرگئی، لوگوں نے اس کی بات مان لی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ پہلے ہی سے اللہ کی بندگی سے برگشتہ تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت