فهرس الكتاب

الصفحة 4817 من 6343

(15) قریش کے سادات بڑی عقل والے مانے جاتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ محمد نہ کاہن ہے نہ مجنون، بلکہ وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں، لیکن محض کبرو عناد کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں متضاد باتیں کہتے تھے، کبھی انہیں کاہن کہتے جو ان کے خیال میں بڑا ذہین و فطین ہوتا تھا اور کبھی انہیں مجنون کہتے جو عقل سے عاری ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا ان کی عقل و دانش جوان کی صفت بتائی جاتی ہے، انہیں ایسی ہی متضاد بات کرنے کا حکم دیتی ہے؟ پھر اللہ نے فرمایا کہ نہیں بات دراصل یہ ہے کہ ان کی سرکشی حد سے تجاوز کرگئی ہے اور حق ظاہر ہوجانے کے باوجود محض کبر و عناد کی وجہ سے وہ ایسی متضاد باتیں کرتے ہیں۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کی سرکشی تو بہت زیادہ آگے بڑھ گئی ہے، کہتے ہیں کہ قرآن محمد کا کلام ہے، اس نے اسے اپنی طرف گھڑ لیا ہے، بلکہ بات اس سے بھی آگے جا چکی ہے، دراصل یہ متضاد باتیں وہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ کافر ہیں، نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی تصدیق کرتے ہیں، اسی لئے اس طرح کی افترا پردازی کرتے ہیں۔

آیت (34) میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو چینلج کیا کہ اگر وہ اپنے زعم میں سچے ہیں کہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ہے، تو پھر اس جیسا کلام لا کر دکھائیں جو حسن بیان، اسلوب بدیع اور فصاحت و بلاغت کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے، اس لئے کہ قرآن عربی زبان میں ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ فصاحت و بلاغت کی حدود کو چھو رہے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت