(1) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کی خبر دی ہے ایک تو یہ کہ قیامت قریب ہوچکی ہے اور دوسری یہ کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا تھا اور دونوں یہ باتوں کی تائید نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح احادیث سے ہوتی ہے۔
قرب قیامت کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے دوسری کئی آیتوں میں بھی خبر دی ہے۔ سورۃ النحل آیت (1) میں آیا ہے: (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) " اللہ کا حکم آچکا ہے، پس تم لوگ اس کی جلدی نہ مچاؤ" اور سورۃ الانبیاء آیت (1) میں آیا ہے: (افترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون) " لوگوں کے حساب کا وقت آچکا ہے اور وہ غفلت میں پڑے دین حق سے منہ پھیر رہے ہیں۔ "
ابن جریر لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں لوگوں کو قرب قیامت کی خبر دے کر تنبیہہ کی گئی ہے کہ یہ دنیا عنقریب فنا ہوجائے گی، اس لئے قیامت کی ہولناکیوں سے نجات پانے کی تیاری کرنی چاہئے۔
امام احمد نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے اور آفتاب عصر کے بعد غروب ہونے کے قریب تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو لوگ دنیا سے گذر چکے ہیں، ان کی عمروں کے مقابلے میں تمہاری عمریں اتنی ہی باقی رہ گئی ہیں جتنا ابھی دن کا حصہ باقی رہ گیا ہے اور امام احمد نے سہل بن عسد (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں دنیا میں اس وقت مبعوث کیا گیا ہوں جب قیامت اس قدر قریب ہے جتنی میری یہ دونوں انگلیاں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔
دوسری بات یعنی " انشقاق قمر" کے بارے میں جمہور علمائے امت کی رائے ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکی دور میں ہجرت سے تقریباً پانچ سال قبل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک عظیم معجزہ کے طور پر چاند دو ٹکڑے ہو کر جبل حراء کے دونوں طرف ہوگیا تھا اور بیچ میں پہاڑ آگیا تھا۔ قاضی عیاض نے مفسرین اور اہل سنت کا اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اس مضمون کی حدیثیں متواتر ہیں۔ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب " تاویل مختلف الحدیث" میں لکھا ہے کہ نظام معتزلی نے ان احادیث کا بغیر دلیل انکار کیا ہے۔ زمخشری، بیضاوی اور ابوالسعود نے عطاء سے بھی اس طرح کا قول نقل کیا ہے، نظام نے کہا ہے کہ چاند قیامت کے دن پھٹے گا اس رائے کی بنیاد انکار سنت پر ہے۔
بخاری و مسلم اور دیگر ائمہ حدیث نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ اہل مکہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے نبی ہنے کی نشانی کا مطالبہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند کے دو ٹکڑے کر دکھائے، یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو دونوں ٹکڑوں کے درمیان دیکھا۔
بخاری و مسلم اور دیگر ائمہ حدیث نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا تھا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس کے نیچے آگیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے فرمایا:" دیکھو یا گواہ رہو"
اور مسلم و ترمذی نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ اسی معجزہ کے ظہور کے بعد آیت (افتربت الساعۃ وانشق القمر) نازل ہوئی تھی۔
اور امام احمد، ترمذی اور حاکم وغیرہم نے جبیربن مطعم (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تھے کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا تھا ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر اور دوسرا ٹکڑا دوسرے پہاڑ پر، تو لوگ کہنے لگے کہ محمد نے ہم پر جادو کردیا ہے، ایک شخص نے کہا کہ اگر اس نے تمہیں محسور کردیا ہے تو وہ تما لوگوں کو مسحور نہیں کرسکے گا۔ یعنی اگر تمہارے علاوہ دوسروں نے بھی چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے تو تمہاری بات صحیح نہیں ہوگی کہ اس نے تم پر جادو کردیا ہے، بلکہ یہ اس کا معجزہ ہوگا۔
اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے آیت (2) میں بیان فرمایا ہے کہ جب انہوں نے اس معجزے کو مشاہدہ کرلیا تو بجائے اسکے کہ ایمان لے آتے، استکبار میں آ کر اسے ماننے سے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ یہ تو بڑا ہی زبردست جادو ہے جو محمد نے ہم پر کردیا ہے۔
اور آیت (3) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے اس کی نشانیوں کا انکار کردیا اور اپنی خاہش نفس کی اتباع کرتے ہوئے حق سے منہ پھیر لیا، لیکن انہیں جان لینا چاہئے کہ اللہ کا فیصلہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہتا ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین غالب ہو کر رہے گا اور اللہ ان کی ضرور مدد فرمائے گا اور ان کے منکرین کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا۔