(27) یہ آیت کریمہ نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو عذاب کی جلدی مچاتے تھے اور کبر و عناد میں آکر رسول اللہ سے مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب کی انہیں دھمکی دی جاتی ہے وہ ابھی اور اسی لمحہ کیوں نہیں آجاتا۔
سورۃ الانفال آیت (32) میں ان کے اسی قول کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اے اللہ ! اگر یہ قرآن وقعی تیرا کلام ہے تو ہم پر تو آسمان سے پتھر برسا دے، یا ہم پر کوئی اور دردناک عذاب نازل کردے، اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ انہیں عذاب کی بڑی جلدی پڑی ہے، تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے اس کا عذاب آکر رہے گا، یہ تو اس کی غایت بردباری اور دشمنان اسلام سے انتقام لینے کی اس کی انتہائے قدرت کی وجہ سے ایسا ہورہا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ جب چاہے گا انتقام لے لے گا اسی لیے لوگوں کا ہزار سال، اس کی بردباری کے پیش نظر گویا ایک دن کے مانند ہے، اسی لیے آیت (48) میں اللہ نے فرمایا کہ اس نے بہت سی گناہگار بستیوں کو مہلت دی، لیکن جب وہ اپنے گناہوں سے باز نہیں آئیں تو انہیں اچانک اپنی گرفت میں لے لیا، اس لیے مشرکین کی جلد بازی کا کوئی معنی نہیں ہے۔ اگر دنیا کے عذاب سے بچ جائیں گے، تو انہیں بہرحال میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے، جہاں دائمی اور ابدی عذاب ان کا انتظار کر رہا ہے۔
فخر الدین رازی نے آیت (47) کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ عقلمند انسان کو عذاب آخرت کی جلدی نہیں مچانی چاہیے، اس لیے کہ آخرت میں ایک دن کا عذاب، شدت کرب و الم کے اعتبار سے ایک ہزار سال کے عذاب کے برابر ہوگا، اگر لوگوں کو عذاب آخرت کی شدت کا اندازہ ہوتا تو جلدی نہ مچاتے۔