(17) میدان محشر کا ایک منظر بیان کیا جا رہا ہے کہ دنیا میں شرک و معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے لوگ اس دن اپنی بد اعمالیوں کو یاد کر کے اپنے برے انجام سے شدید خائف ہوں گے، کیونکہ اس وقت انہیں یقین ہوجائے گا کہ اب عذاب نار سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
اور جنہوں نے دنیا میں رب العالمین کی ربوبیت کا اقرار کرلیا ہوگا، اسلام کو بحیثیت دین اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بحیثیت ہی تسلیم کرلیا ہوگا اور اپنی زندگی عمل صالح کے ساتھ گذاری ہوگی، ان کا مقام خوبصورت ترین جنتیں ہوں گی جن میں ان کے رب کی طرف سے ان کی مرضی کی ہر چیز ملے گی اور اہل جنت پر اللہ کا یہ بڑا فضل و کرم ہوگا۔
آیت (32) میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لئے اپنے وعدے کی تجدید کرتے ہوئے فرمایا کہ خوبصورت ترین جنتوں، بے مثال باغات اور بے بہا نعمتوں کی اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو خوش خبری دیتا ہے، جو ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرتے ہیں۔
آیت کے دوسرے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی فرمایا کہ اے اہل قریش ! اتنی عظیم نعمتوں کے حصول کی طرف رہنمائی پر میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا ہں، صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کے ساتھ میری جو قرابت و رشتہ داری ہے اس کا خیال کر کے میری ایذا رسانی سے باز آجاؤ اور دوسروں کو بھی مجھے ایذا پہنچانے سے رد کو، تاکہ میں بسہولت اللہ کا پیغام اس کی مخلوق تک پہنچا سکوں۔
آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بندہ مومن بھی کوئی عمل صالح کرے گا تو ہم اس کا بدلہ اسے کئی گنا بڑھا کردیں گے اس لئے کہ ہم توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو معاف کردیتے ہیں اور نیکو کاروں کو ان کے اعمال صالحہ کا بدلہ کئی گنا بڑھا کردیتے ہیں۔