فهرس الكتاب

الصفحة 2081 من 6343

(26) اللہ تعالیٰ نے انسان کو نصیحت کی ہے کہ وہ زمین میں کبر و غرور کے ساتھ اکڑ کر نہ چلے، اس لیے کہ ایسا کرنے سے وہ اونچا نہیں ہوجاتا ہے، جیسا پہلے تھا ویسا ہی رہتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا کہ کبر و غرور کی وجہ سے زمین کو روند کر چلنے سے وہ زمین میں سوراخ نہیں کرسکتا ہے، اور نہ ہی اکڑ کر چلنے پہاڑ کے مانند اونچا ہوجاتا ہے، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ تواضع اور انکساری اختیار کرے کیونکہ کبر و غرور حماقت اور کم عقلی کی نشانی ہے۔

آیت (38) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مذکورہ بالا آیتوں میں جن بری باتوں سے روکا گیا ہے وہ سب نہایت برے اعمال ہیں، آدمی کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں ان سے اجتناب کرے، اور جن اچھی باتوں کا حکم دیا گیا ہے ان پر عمل پیرا رہے۔

آیت (39) میں نبی کریم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ گزشتہ آیتوں میں جن اخلاق حمیدہ کا حکم دیا گیا ہے اور جن بری صفات سے منع کیا گیا ہے، حکمت کی یہ ساری باتیں اللہ نے آپ کو بذریعہ وحی بتائیں ہیں۔

آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے شرک سے منع فرمایا ہے نصیحتوں کا آغاز اسی دعوت توحید سے ہوا تھا، اور اب بات اسی پر ختم کی جارہی ہے یہ احساس دلانے کے لیے تمام حکمتوں کی اصل اور بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ مشرک کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اس وقت وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا پھرے گا اور اللہ تعالیٰ اور اس کی تمام مخلوقات بھی اسے ملامت کرے گی اور وہ رحمت باری تعالیٰ سے ہمیشہ کے لیے دور کردیا جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت