(2) ابن المنذر اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ کچھ مسلمان جہاد فرض ہونے سے پہلے کہتے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون سا عمل پسند ہے تو ہم اسے کرتے، تو اللہ نے بذریعہ وحی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی کہ سب سے بہترین عمل ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے اور جب جہاد فرض ہوا تو ان مسلمانوں پر جہاد کرناگراں گذرا، تو یہ آیت نازل ہوئی، جس میں اللہ نے انہیں عتاب کیا، اس لئے کہ ایمان صادق کا تو تقاضا یہ ہے کہ مومن نہ جھوٹ بولے اور نہ وعدہ خلافی کرے جو کہے اس کے مطابق عمل کرے اور جو نیک کام نہ کیا ہو اسے اپنی طرف منسوب نہ کرے، کیونکہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوث بات یہ ہے کہ آدمی اپنی طرف ایسے بھلائی کے کام منسوب کرے جو اس نے نہ کیا ہو، یا کہے کہ میں فلاں خیر کا کام کروں گا اور پھر اسے نہ کرے۔
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں، یہ آیت دلیل ہے کہ مطلق وعدہ وفا کرنا واجب ہے اور اس کی تائید صحیحین کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا نہیں کرتا ہے اور جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب اس کے پاس کوئی امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔