(4) باری تعالیٰ نے حضرت انسان کو باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ یقیناً انہیں دوبارہ زندہ کرنے اور ان کا حساب لینے پر قادر رہے، وہ تو وہ ہے جس نے اسے بے شماربیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، اس نے اسے دو آنکھیں دی ہیں جن کے ذریعہ وہ دیکھتا ہے اور زبان اور دو ہونٹ دیئے ہیں جنہیں حرکت دے کر وہ بولتا ہے اور جن کے ذریعہ وہ اپنے منہ کا اندرونی حصہ اور دانتوں کو چھپاتا ہے، تاکہ اس کی شکل و صورت اچھی لگے۔
اور آخرت کی کامیابی کے لئے اس نے اسے خیر و شر دونوں راہیں دکھا دی ہیں اور ان میں سے ایک راہ کو اختیار کرنے کی صلاحیت دے دی ہے۔
ان نعمتوں کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اپنے رب کا شکر گذار بندہ بنتا اور انہیں ارتکاب معاصی کے لئے استعمال نہ کرتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتا رہا اور نیکی وتقویٰ کی دشوار گذار راہ پر چل کر منزل کو پانے کی کوشش نہیں کی، یعنی نفس اور شیطان کی نافرمانی کر کے اللہ کی طاعت و بندگی میں نہیں لگا اور اس راہ کی کٹھنائیوں سے کتراتا رہا اور حصول جنت کی کوشش نہیں کی۔