فهرس الكتاب

الصفحة 5936 من 6343

(3) لفظ " کلا" کے ذریعہ ان لوگوں کی زجر و توبیخ کی گئی ہے جو ناپتول میں خیانت کرتے ہیں اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کمی کرتے ہیں، ان سے کہا گیا ہے کہ تم یہ نہس مجھو کہ تمہایر یہ اعمال لکھے نہیں جا رہے ہیں، تمہارا ان پر محاسبہ نہیں ہوگا اور تمہیں روز قیامت ان کا بدلہ نہیں دیا جائے گا، قیامت کا دن ضرور آئے گا اور تمہارے نامہ ہائے اعمال تمہارے سامنے ضرور پیش کئے جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فاجروں کے نامہ ہائے اعمال سجین میں ہوں گے اور سجین کی تفسیر یہ بیان کی کہ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے، یعنی ایسی کتاب جس میں شیاطین، کفار، فاسقوں اور فاجروں کے برے اعمال لکھے جاتے ہیں، فتادہ، سعید بن جبیر، مقاتل اور کعب کا قول ہے کہ " سجین" ساتویں زمین کے نیچے ایک چٹان ہے، جس کے نیچے فاجروں کے نامہ ہائے اعمال دبا دیئے جاتے ہیں۔ مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ اخفش، مبرد اور زجاج وغیرہ نے (ان کتاب الفجار لفی سجین) کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ وہ فجار حبس دوام اور شدید تنگی میں ہیں، یعنی روز قیامت وہ نہایت ہی ذلت و روسائی سے دوچار ہوں گے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس دن اللہ اس کی آیتوں اور روز قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لئے ہلاکت و بربادی ہوگی یا انہیں جہنم کی وادی ویل میں درد ناک عذاب دیا جائے گا۔

مفسرینل کھتے ہیں کہ ناپت ول میں خیانث کرنے والے اس وعید میں بدرجہ اولیٰ داخل ہیں اس لئے کہ اس گناہ کے ارتکاب پر ان کا اصرار اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بعث بعد الموت پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔

آیات (12/13) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روز قیامت کی تکذیب وہی شخص کرتا ہے جو اللہ کے حدود سے تجاوز کرنے والا اور انواع و اقسام کے جرائم و معاصی کا ارتکاب کرنے والا ہوتا ہے اور اس کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ جب اس کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ کہہ کر اس کا انکار کردیتا ہے کہ یہ تو گزشتہ قوموں کے قصے اور افسانے ہیں، یہ وحی الٰہی نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت