(39) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام کافروں کے اعمال کا محاسبہ کرے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے، ایک دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں مومن و کافر تمام بنی نوع انسان مراد ہیں، اس قول کی تائید قرآن کریم کی ان آیتوں سے ہوتی ہے جن میں تمام بنی نوع انسان سے پوچھے جانے کی صراحت آئی ہے۔ مثلا سورۃ الغاشیہ کی آیات (25، 26) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (ان الینا ایابھم ثم ان علینا حسابھم) بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے، پھر ان سے حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے۔
صاحب محاسن التنزیل کی رائے ہے کہ ( عما کانوا یعملون) سے مراد کفار قریش کا قرآن کریم کے بارے میں عمل تقسیم ہے کہ اس کا بعض حصہ شعر، بعض جادو اور بعض گزشتہ اقوام کے واقعات ہیں انہی کافروں کو اس آیت میں دھمکی دی گئی ہے۔