(5) اے اہل قریش ! تم نے میرے نبی اور میرے قرآن پر جتنے اتہامات دھرے، سب کی نفی ہوچکی اور سب کی تردید کی جا چکی اس کے بعد بھی اگر تم حق کو قبول نہیں کرتے، تو تمہارے لئے ضلالت و گمراہیکے سوا کوئی راہ باقی نہیں رہ گئی ہے اس لئے تم ہٹ دھرمی سے باز آجاؤ اور حق کو قبول کرلو، اور قرآن پر ایمان لے آؤ جو سارے عالم کے لئے عبرت و موعظت کا خزانہ ہے، لیکن اس خزانے سے وہی مستفید ہوگا جو راہ حق پر چلنا چاہے گا اور اس حق کو وہی قبول کرتا ہے اور اس پر وہی چلتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے اس کی توفیق دیتا ہے۔
سورت کے آخر میں مشیت الٰہی کے ذکر سے مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ بندہ ہر حال میں رب العالمین کا محتاج ہے اور یہ کہ اس کی قدرت و مشیت کے بغیر بندہ بالکل عاجز و درمادنہ ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ ہر نیک کام کی توفیق اسی سے مانگتا رہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کی رہنمائی سورۃ الفاتحہ میں کی ہے، اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق مانگنے کی تعلیم دی ہے۔ وباللہ التوفیق