(12) اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن مومنوں اور مشرکوں کا مآل و انجام بیان کیا گیا ہے اور آیت (41) میں مشرکین مکہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس اللہ کے ایسے شرکاء ہیں جنہوں نے انہیں ضمانت دے رکھی ہے کہ قیامت کے دن وہ مومنوں سے بہتر حالت میں ہوں گے تو پھر ان شرکاء کو انہیں اس دن سامنے لانا ہوگا جب حالات کی ہولناک انتہائک وپ ہنچی ہوگی اور رب العالمین مخلوقات کے درمیان فیصلہ کرنے کے لے ان کے سامنے آئے گا اور حالات کی سنگینی کے اظہار کے لئے باری تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دے گا تو ہر مومن مرد و عورت سجدہ میں گرجائیں گے اور منافقین مردوں اور عورتوں کی پیٹھیں تختہ کے مانند ہوجائیں گی اور ہزار کوشش کے باوجود سجدہ نہ کرسکیں گے اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی میں اللہ کے لئے اخلاص کے ساتھ کبھی سجدہ نہیں کیا تھا اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب التفسیر میں اور امامم سلم نے کتاب الایمان میں ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے۔
اس دن منافق مردوں اور عورتوں کی نظریں شدت خوف سے نیچے جھکی ہوں گی اور وہ ذلت و رسوائی کے بوجھ تلے دبے ہوں گے۔ یہ لوگ جب دنیا میں صحت مند تھے اور ان سے سجدہ کرنے کو کہا تھا تو کفر اور شدت استکبار کی وجہ سے ان کی گردنیں اللہ کے سامنے نہیں جھکتی تھیں۔
امام ابن حزم نے اپنی کتاب " الفصل" میں لکھا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روز قیامت کے بارے میں خبر دی ہے کہ اللہ عزو جل اس دن جب اپنی پنڈلی کھو لے گا، تو مومن مرد و عورت سجدہ میں گر جائیں گے، اس کی تائید قرآن کریم کی آیت: (یوم یکشف عن ساق و یدعون الی السجود) سے ہوتی ہے۔ انتہی
اسی آیت کریمہ اور صحیحین کی مذکور بالا حدیث کے پیش نظر محدثین نے اللہ تعالیٰ کے لئے " ساق" یعنی پنڈلی کو ثابت کیا ہے اور اس کی تاویل کرنے سے احتراز کیا یہ۔