سورۃ حم ٓ السجدہ مکی ہے، اس میں چون آیتیں، اور چھ رکوع ہیں
تفسیر سورۃ حم السجدہ
نام: اس کا نام حروف مقطعہ " حم" اور آیت (38) سے ماخوذ ہے، جس کی تلاوت کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خانہ کعبہ میں عتبہ بن ربیعہ کی موجودگی میں سجدہ کیا تھا۔
زمانہ نزول: قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ سورت تمام مفسرین کے نزدیک مکی ہے، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابو یعلی، حاکم، ابن مردویہ، ابو نعیم، بیہقی اور ابن عساکر سب نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے اور حاکم و ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے کہ ایک دن قریش کے لوگ جمع ہوئے اور آپس میں راے کی کہ ان میں جو شخص جادو، کہانت اور شعر سب سے زیادہ جانتا ہے، اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا جائے جس نے ہمارے درمیان تفریق پیدا کردی ہے اور ہمارے دین کی عیب جؤی کی ہے، تاکہ اس سے بات کرے اور دیکھے کہ وہ کیا جواب دیتا ہے سب کی رائے ہوئی کہ اس کام کے لئے سب سے مناسب آدمی عتبہ بن ربیعہ ہے، چنانچہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہا کہ تم بہتر ہو یا عبداللہ (تمہارے باپ) تم بہتر ہو یا عبدالمطلب (تمہارے دادا) اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ لوگ بہتر تھے تو وہ انہی معبودوں کی پرستش کرتے تھے جن کی تم نے عیب جوئی کی ہے اور اگر تم سمجھتے ہو کہ تم بہتر ہو تو بات کرو تاکہ ہم سنیں۔
اللہ کی قسم ! تم سے زیادہ ہم نے کسی کو اپنی قوم کے لئے نقصان دہ نہیں پ ایا، تم نے ہمارے درمیان تفریق پیدا کردی، ہمارے دین میں عیب نکلا اور تمام عربوں میں ہماری بے عزتی کرائی، تمام عربوں میں مشہور ہوگیا کہ قریش میں ایک جادوگر ہے، قریش میں ایک کاہن ہے، اللہ کی قسم ! اب تم اسی کا انتظار کر رہے ہو کہ ہم ایک دوسرے کے خلافتلواریں لے کر تن جائیں۔ اگر تم مال چاہتے ہو تو بتاؤ، ہم لوگ تمہارے لئے اتنا مال اکٹھا کردیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالدار بن جاؤ اور اگر شادی کرنا چاہتے ہو، تو قریش کی جن عورتوں کو چاہو پسند کرلو، ہم تمہاری دس شادیاں کرا دیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا، کیا تمہاری بات پوری ہوگئی؟ اس نے کہا ہاں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہا اور حم کی تلاوت شروع کردی اور جب (فان اعرضوا فقل انذرتکم صاعقہ مثل صاعقۃ عادو ثمود) تک پہنچے، تو عتبہ نے کہا، بس کرو، کیا تمہارے پاس اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے؟ آپ نے جواب دیا: نہیں تو وہ اٹھ کر قریش والوں کے پاس گیا اور کہا کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے جیسا میرے کانوں نے کبھی نہیں سنا تھا اور مجھ سے اس کا کوئی جواب نہیں بن پڑا ہے۔
محمد بن اسحاق نے اپنی کتاب " السیرۃ" میں اس واقعہ کی جو تفصیل بیان کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سورت حمزہ بن عبدالمطلب کے اسلام لانے کے بعد نازل ہوئیتھی جب لوگ تیزی سے اسلام میں داخل ہونے لگے تھے۔ (دیکھیے تفسیر ابن کثیر: حمد السجدہ)