فهرس الكتاب

الصفحة 4283 من 6343

(18) ابن ابی حاتم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ میں اونچی آواز سے قرآن پڑھتے، تو مشرکین سننے والوں کو وہاں سے بھگادیتے اور کہتے کہ " تم لوگ اس قرآن کو نہ سنو، اور دوسری بے ہودہ باتیں کرنے لگو، تاکہ سننے والوں کو اس سے روک سکو" اور جب پست آواز سے پڑھتے تو جو لوگ قرآن سننا چاہتے وہ سن نہیں پاتے تو سورۃ الاسراء کی آیت (110) (ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا) نازل ہوئی، یعنی " نہتو آپ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھئے اور نہ بالکل پوشیدہ"

مشرکین مکہ کے اسی معاندانہ رویہ کو اس آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے مجاہد نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ خوب مذاق اڑاؤ، تالیاں بجاؤ، اور ادھر ادھر کی باتیں کروتاکہ محمد کی قرأت بے معنی بن جائے (لعلکم تغلبون) کا مفہوم یہ ہے کہ اس طرح تمہاری آوازیں محمد کی آواز پر غالب آجائیں گی اور وہ قرآن پڑھنے سے باز آجائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ان نازیبا اور بے ہودہ حرکتوں پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم ان کافروں کو شدید عذاب دیں گے۔ اور قیامت کے دن ان کے کرتوتوں کا بدترین بدلہ دیں گے۔ اس دن اللہ کے دشمنوں کا بدلہ جہنم کی آگ ہوگی، جس میں وہ ہمیشہ جلتے رہیں گے، اس سبب سے کہ ہو دنیا میں اللہ کی کتاب کا انکار کرتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت