(5) نوح (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان تمام نصیحتوں کا ان کی قوم پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑ رہا ہے تو انداز سخن بدلتے ہوئے کہا کہ تم کتنے خراب لوگ ہو کہ تمہارے دلوں میں اللہ کی عظمت و قدرت اور اس کی کبریائی کا کوئی اثر نہیں ہے، حالانکہ تمہارا رب وہی ہے جس نے تمہیں مختلف اطوار سے گذار کر پیدا کیا ہے، اس لئے وہی تنہا ہر عبادت کا مستحق ہے۔